دانتوں کی فلنگ میں لونگ کا ذائقہ ہو تو کیا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا؟

سوال

ماہ رمضان سے پہلے میری ایک ڈاڑھ میں بہت شدید درد اٹھا، جس پر ڈینٹل ڈاکٹر نے علاج کے لیے وقتی طور پر فلنگ کر دی، اس فلنگ کی وجہ سے منہ میں ہمیشہ لونگ کا ذائقہ آتا رہتا ہے، لعاب کے ساتھ وہ ذائقہ بھی پیٹ میں جاتا ہے، منہ کے لعاب سے چھٹکارا پانا بہت مشکل ہے، تو کیا لعاب کے ساتھ لونگ کا ذائقہ پیٹ میں جاتا رہے تو کیا اس سے روزہ باطل ہو جائے گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

اگر دانتوں کی فلنگ میں روغنِ لونگ کا استعمال مسوڑھوں کے آرام کے لیے کیا جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، چاہے لونگ کا ذائقہ منہ میں آتا رہے؛ کیونکہ فلنگ میں سے کچھ بھی منہ میں حل نہیں ہو گا، یا پھر یہ معمولی سی چیز ہو گی جو لعاب کے ساتھ مل جاتی ہے جسے باہر نکالنا ممکن نہیں ہے؛ اس لیے یہ قابل معافی ہو گا، جیسے وضو کرتے ہوئے کلی کے بعد منہ میں پانی بچ جاتا ہے اور لعاب کے ساتھ مل کر پیٹ میں بھی پہنچ جاتا ہے، اسی طرح مسواک کرتے ہوئے منہ میں مسواک کے ذائقے کا آنا بھی قابل معافی ہے۔

نیز طبی ماہرین ذکر کرتے ہیں کہ: مسواک میں 8 طرح کے کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جو دانتوں اور مسوڑھوں کو بیماریوں سے بچاتے ہیں، یہ لعاب کے ساتھ حل ہو کر گلے میں داخل ہوتے ہیں، اور صحیح بخاری میں سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے آپ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے انگنت بار دیکھا ہے۔
تو معدے تک چلے جانے والے ان کیمیائی مواد کو قابل معافی قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ ایک تو یہ بہت کم ہوتے ہیں اور غیر مقصود بھی ہوتے ہیں۔" ختم شد
ماخوذ از: مفطرات الصيام المعاصرة ، از ڈاکٹر احمد خلیل، صفحہ: 33، المفطرات الطبية المعاصرة، از ڈاکٹر عبد الرزاق کندی، صفحہ: 165۔

چنانچہ اگر مسواک کے ان کیمیائی اجزا کو معاف قرار دیا گیا ہے کہ یہ بہت معمولی اور غیر مقصود ہیں تو اسی طرح لونگ کے ذائقے کو بھی معاف قرار دیا جائے گا وہ بھی تب جب یہ فرض کر لیا جائے کہ دانتوں کی فلنگ میں سے کچھ منہ میں حل ہو جاتا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (49658 )، (92923 ) اور (78438 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

روزہ فاسد کرنےوالے خون کاضابطہ اورمقدار

سوال

میں جسم سے نکلنے والے خون کی مقدار کا پوچھنا چاہتا ہوں جوروزے پر اثرانداز ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، کیونکہ مجھے کچھ مدت سے خونی بواسیر ہے جس کی وجہ سے بہت خون نکلتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اللہ تعالی آپ کو جلدازشفایابی سے نوازے ۔

آپ کا روزہ صحیح ہے کیونکہ یہ خون مرض کی وجہ سے نکلتا ہے جس میں آپ کا کوئي دخل نہيں ، لھذا آپ پرکوئي چیز لازم نہیں ہوتی اگرچہ خون کی مقدار زيادہ ہی ہو ۔

ذيل میں ہم روزہ فاسد کرنے والے خون کا ضابطہ ذکرکرتے ہيں :

انسان کےجسم سے نکلنے والے خون کی دو حالتیں ہيں :

خون انسان کے فعل اوراختیارسے نکلے : اس کی تفصیل یہ ہے :

1 - سنگی لگوانے سے نکلنےوالاخون ، اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( سنگی لگانے اورلگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ) ۔

2 - سنگی کے بغیر کسی نس اور رگ سے خون بہہ نکلے ، اگرزیادہ مقدارمیں ہواورانسان کے جسم پر اثرانداز ہوتو اس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے مثلا خون دینے سے ، اوراگر مقدار کم ہو جوشخص کو ضررنہ دے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ، مثلا ٹیسٹ وغیرہ کے لیے تھوڑا ساخون حاصل کرنا ۔

دوم :

خون بغیر قصد اورارادہ کے نکلے : مثلا کسی حادثہ میں زخمی ہونے یا نکسیر کی وجہ سے خون نکلے تو اس کی وجہ سے روزہ صحیح ہے چاہے خون کی مقدار زيادہ بھی ہو ۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے فتوی کا ماحاصل یہی ہے دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 2 / 132 ) ۔

لیکن اگر انسان کے قصد اورارادے کے بغیر ہی خون زيادہ مقدار میں خارج ہوجائے جس سے وہ روزہ رکھنے سے کمزور ہوجائے تواس حالت میں اس کے لیے افطار جائز ہے اوراس کے بدلے میں اسے بعد میں قضاء کرنا ہوگي ۔

واللہ اعلم .

روزے کی بعض سنتیں

سوال

روزے کی سنتیں کیا ہیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

روزے کی سنتیں بہت ہیں جن میں سے چند ایک ذیل میں دی جاتی ہيں :

اول :

روزے دار کے مسنون ہے کہ جب اسے کوئي گالی گلوچ یا لڑائي کرے تو وہ اس سے بہتراوراچھا سلوک کرے اوراسے کہے کہ میں روزہ سے ہوں ، اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( روزہ ڈھال ہے لھذا روزہ دار کسی کوگالی گلوچ نہ کرے اورنہ ہی جہالت کے کام کرے اوراگر کوئي شخص اس سے لڑائي کرے یا اسے گالی نکالے تو اسے وہ دوبار کہے کہ میں روزہ سے ہوں ۔

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقینا روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ تعالی کے ہاں کستوری سے بھی زيادہ اچھی ہے ، وہ میری وجہ سے اپنا کھانا پینا اورشھوت ترک کرتا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجروثواب دونگا ، اورایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1894 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1151 ) ۔

دوم :

روزہ دارکےلیے سحری کھانا سنت ہے کیونکہ اس کا ثبوت صحیحین کی مندرجہ ذيل حدیث میں ملتا ہے:

انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( سحری کیا کرو اس لیے سحری کھانے میں برکت ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1923 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1095 ) ۔

سوم :

سحری میں تاخير کرنا سنت ہے کیونکہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ :

انس زيد بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہيں کہ :

ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اذان اورسحری میں کتنا فرق تھا وہ کہنے لگے تقریبا پچاس آیت جتنا وقت ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1921 ) ۔

چہارم :

افطاری جلدکرنا سنت ہے ۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے ان میں خیروبھلائي موجود رہے گی ) ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1957 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1098 ) ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 49716 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

پنجم :

سنت یہ ہے کہ افطاری رطب تازہ کھجوروں سے کرے اگر رطب نہ ملیں تو پکی ہوئي کھجوروں سے اگر یہ بھی میسر نہ ہوں پانی کے ساتھ افطاری کرنا سنت ہے ، کیونکہ حدیث میں ہے :

انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ :

( رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب سے قبل چند رطب کھجوروں کے ساتھ افطاری کرتے تھے اگر رطب کجھوریں نہ ہوتی تو پکی ہوئي کجھوروں سے افطاری کرتے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہوتی تو آپ چند پانی کے گھونٹ پی کرافطاری کرلیتے ) ۔

سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2356 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 696 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل ( 4 / 45 ) میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔

ششم :

یہ بھی سنت ہے کہ افطاری کے وقت دعائے مسنونہ پڑھے ، افطاری کے وقت مسنون دعا میں بسم اللہ بھی شامل ہے بلکہ یہ تو صحیح قول کے مطابق واجب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔

اورافطاری کے وقت مندرجہ ذیل دعا پڑھنی چاہیے جوکہ صحیح حدیث میں ثابت ہے :

( ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله ) پیاس چلی گئي اوررگیں تر ہوگئيں اورانشاء اللہ اجروثواب ثابت ہوگيا ۔

سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2357 ) سنن بیہقی ( 4 / 239 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے الارواء الغلیل ( 4 / 39 ) میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔

اورلوگوں میں ایک معروف دعا بھی ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے جسے ہم ذيل میں ذکر کرتے ہيں :

( اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت ، اللهم تقبل مني إنك أنت السميع العليم ) اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اورتیرے رزق پر ہی افطاری کی ، اے اللہ مجھ سے یہ قبول فرما بلاشبہ تو سننے والا اورجاننے والا ہے ۔

یہ حدیث ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے زاد المعاد میں کہا ہے دیکھیں زاد المعاد ( 2 / 51 ) ۔

احادیث میں روزہ دار کی دعا کے بارہ میں فضیلت وارد ہے :

1 - انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( تین دعائيں رد نہيں ہوتیں : والد کی دعا ، اورروزہ دار کی دعا ، اورمسافر کی دعا ) سنن بیہقی ( 3 / 345 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے السلسلۃ الصحیحۃ ( 1797 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

2 - ابوامامۃ رضی اللہ تعالی عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں :

( ہرافطاری کے وقت اللہ تعالی آزادی دیتے ہیں ) مسند احمد حدیث نمبر ( 21698 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الترغیب ( 1 / 491 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

3 - ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ :

( ہر دن اوررات ( یعنی رمضان میں ) میں اللہ تعالی آزادی دیتے ہیں ، اورہر دن اوررت میں مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے ) اسے بزار نے روایت کیا ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الترغیب ( 1 / 491 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

؎واللہ اعلم

کیا سفرمیں روزہ رکھنا افضل ہے یا چھوڑنا ؟

سوال

رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں سفر کرنے والے کے لیے روزہ افطار کرلینا افضل ہےیا مکمل کرنا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

آئمہ اربعہ اورجمہور صحابہ کرام اورتابعین کا مسلک ہے کہ سفر میں روزہ جائزاورصحیح ہے اوراگر مسافر روزہ رکھ لے تو وہ ادا ہوجائے گا ۔

دیکھیں الموسوعۃ الفقھیۃ ( 73 ) ۔

لیکن افضلیت میں تفصیل ہے :

پہلی حالت :

جب سفرمیں روزہ رکھنا اورچھوڑنا برابر ہو ، یعنی مسافر پر روزہ اثر انداز نہ ہو تواس حالت میں مندرجہ ذيل دلائل کے اعتبار سے روزہ رکھنا افضل ہوگا :

ا – ابودرداء رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ ہم رمضان کے مہینہ میں سخت گرمی کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ سفر پر نکلے اورگرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سر پر رکھتے تھے ، اورہم میں نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم اورعبداللہ بن رواحہ کے علاوہ کسی اورشخص کا روزہ نہیں تھا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 18945 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1122 ) ۔

ب - نبی صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہونے میں جلدی کرتے تھے ، کیونکہ قضاء میں تاخیر ہوتی ہے ، اوررمضان کے روزوں کی ادائيگی کو مقدم کرنا چاہیے ۔

ج - مکلف کے لیے اغلب طور پر یہ زيادہ آسان ہے ، اس لیے کہ لوگوں کے ساتھ ہی روزہ رکھنا اورافطار کرنا دوبارہ نئے سرے سے روزے شروع کرنے سے زيادہ آسان ہے ۔

د - اس سے فضیلت کا وقت پایا جاسکتا ہے ، کیونکہ رمضان باقی مہینوں سے افضل ہے اورپھریہ وجوب کا محل بھی ہے ۔

ان دلائل کی وجہ سے امام شافعی کاقول راجح ہوتا ہے کہ جس مسافر کے لیے روزہ رکھنا اورافطار کرنا برابر ہوں اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے ۔

دوسری حالت :

روزہ چھوڑنے میں آسانی ہو ، تویہاں ہم یہ کہيں گے کہ اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے ، اورجب اسے سفرمیں روزہ رکھنا کچھ مشقت دے تواس کا روزہ رکھنا مکروہ ہوگا ، کیونکہ رخصت کےہوتے ہوئے مشقت کا ارتکاب کرنا صحیح نہيں اوریہ اللہ تعالی کی رخصت قبول کرنے سے انکار ہے ۔

تیسری حالت :

اسے روزہ کی بنا پرشدید مشقت کا سامنا کرنا پڑے جسے برداشت کرنا مشکل ہو توایسی حالت میں روزہ رکھنا حرام ہوگا ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث میں پائی جاتی ہے :

امام مسلم نے جابر رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفتح میں مکہ کی طرف رمضان المبارک کے مہینہ میں نکلے اورروزہ رکھا جب کراع الغمیم نامی جگہ پر پہنچے ، تولوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اوراوپر اٹھایا حتی کہ لوگوں نے دیکھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی نوش فرمایا ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گيا کہ بعض لوگوں نے ابھی تک روزہ رکھا ہوا ہے ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : یہی نافرمان ہیں یہی نافرمان ہیں ۔

اورایک روایت میں ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزے کی وجہ سے مشقت ہو رہی ہے اوروہ اس انتظار میں ہيں کہ آپ کیا کرتے ہيں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا ۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1114 ) ۔

لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشقت کے ساتھ روزہ رکھنے والوں کو نافرمان قرار دیا ۔

دیکھیں الشرح الممتع للشیخ محمدابن عثیمین رحمہ اللہ ( 6 / 355 ) ۔

امام نووی اورکمال بن ھمام رحمہم اللہ تعالی کہتے ہیں :

سفرمیں روزہ نہ رکھنے کی افضلیت والی احادیث ضرر پر محمول ہیں کہ جسے روزہ رکھنے سے ضررپہنچے اس کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے ، اوربعض احادیث میں تو اس کی صراحت بھی موجود ہے ۔

احادیث میں جمع اور تطبیق دینے کے لیے یہ تاویل کرنا ضروری ہے کیونکہ کسی ایک حدیث کے اھمال یا بغیرکسی قطعی دلیل کے منسوخ کے دعوی سے یہ زيادہ بہتر ہے ۔

اورجن لوگوں نے سفرمیں روزہ رکھنا اورنہ رکھنا دونوں کو برابر قرار دیا ہے وہ مندرجہ ذيل حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے استدلال کرتے ہيں :

وہ بیان کرتی ہيں کہ حمزہ بن عمرو الاسلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں سفرمیں روزہ رکھ لوں ( کیونکہ وہ بہت زيادہ روزے رکھا کرتے تھے ) ؟

تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں جواب میں ارشاد فرمایا :

اگرچاہو تو روزہ رکھ لو ، اوراگر چاہوتو نہ رکھو ۔ متفق علیہ ۔ .

بچوں كو روزہ ركھنے كى عادت ڈالنے كے ليے كونسى عمر مناسب ہے ؟

سوال

كونسى عمر ہے جس ميں بچوں پر روزہ ركھنا واجب ہے ؟
اور ہم انہيں روزہ ركھنے اور مسجد ميں نماز ادا كرنے اور خاص كر نماز تراويح كى ادايئگى پر كيسے ابھار سكتے ہيں ؟
اور كيا كوئى چھوٹے موٹے دينى افكار ہيں جن كے ساتھ رمضان المبارك ميں بچوں كو مشغول ركھا جا سكے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

بالغ ہونے سے قبل چھوٹے بچے پر روزہ ركھنا واجب نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ميرى امت ميں سے تين قسم ( كے لوگوں ) سے قلم اٹھا ليا گيا ہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تك كہ وہ ہوش ميں آجائے، اور سوئے ہوئے سے جب تك كہ وہ بيدار ہو جائے، اور بچے سے جب تك كہ وہ بالغ ہو جائے"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4399 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ليكن اس كے باوجود بچے كو روزہ ركھنے كا كہا جائے تا كہ وہ روزے كا عادى بن جائے، اور اس ليے بھى كہ وہ جو اعمال صالحہ كرتا ہے وہ لكھے جاتے ہيں.

والدين كو چاہيے كہ وہ بچے كو اس عمر سے ہى روزہ ركھنے كى عادت ڈالنا شروع كرديں جس ميں وہ روزہ ركھنے كى طاقت ركھے، اور يہ عمر بچے كے جسم اور بناوٹ كے اعتبار سے مختلف ہوتى ہے، اور بعض علماء كرام نے اس كى تحديد كرتے ہوئے دس برس كى عمر كہا ہے.

خرقى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اور جب بچہ دس برس كى عمر كا ہو اور روزہ ركھنے كى طاقت ركھے تو اس كا مؤاخذہ كيا جائے"

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" يعنى: اس پر روزہ لازم كيا جائے اور اسے روزہ ركھنے كا حكم ديا جائے اور اگر روزہ نہ ركھے تو اسے مار كر سزا دى جائے، تا كہ وہ روزہ ركھنے كى مشق كر سكے اور اس كا عادى بنے، جيسا كہ اسے نماز كا بھى حكم ديا جائے اور اس پر نماز كى ادائيگى لازم كى جائے، بچے كو روزہ ركھنے كا حكم دينے والوں كا مسلك اختيار كرنے والوں ميں عطاء، حسن، ابن سيرين، زہرى، قتادہ اور شافعى رحمہم اللہ شامل ہيں.

اور اوزاعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب بچہ مسلسل تين روزے ركھنے كى طاقت ركھتا ہو اور ان ايام ميں كمزور اور ڈھيلا و سست نہ ہو تو اس پر رمضان المبارك كے روزے ركھنے لازم كيے جائيں.

اور اسحاق رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: جب بچہ بارہ برس كا ہو جائے تو ميں يہ پسند كرتا ہوں كہ اسے روزہ ركھنے كا مكلف كيا جائے تا كہ وہ اس كا عادى ہو جائے.

اور دس برس كى عمر كو معتبر شمار كرنا اولى اور بہتر ہے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس عمر ميں نماز كى ادائيگى نہ كرنے پر مارنے كا حكم ديا ہے، اور روزے كو نماز كے ساتھ ہى معتبر سمجھنا زيادہ بہتر اور احسن ہے كيونكہ يہ ايك دوسرے كے زيادہ قريب ہيں، اور اركان اسلام ميں يہ دونوں بدنى عبادتيں اكٹھيں ہيں، ليكن يہ ہے كہ روزہ زيادہ مشقت كا باعث ہے اس ليے اس كے ليے طاقت اور استطاعت كا معتبر سمجھا گيا ہے، كيونكہ ہو سكتا ہے بعض اوقات نماز كى ادائيگى كى استطاعت ركھنے والا شخص روزہ ركھنے كى استطاعت نہيں ركھتا" انتہى

ديكھيں المغنى لابن قدامہ المقدسى ( 4 / 412 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كا بھى اپنى اولاد كے متعلق يہى طريقہ تھا، بچوں ميں سے جو روزہ ركھنے كى طاقت ركھتا وہ اسے روزہ ركھنے كا حكم ديتے، اور جب ان ميں سے كوئى بھوك كى بنا پر روتا تو انہيں كھلونے دے ديتے تا كہ وہ اس سے كھيلنے لگے، اگر ان كى جسمانى يا بيمارى كمزورى كى بنا پر روزہ انہيں ضرر ديتا ہو تو پھر روزہ ركھنے پر اصرار كرنا جائز نہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" چھوٹے بچے پر بالغ ہونے تك روزے ركھنے لازم نہيں، ليكن جب وہ روزے كى طاقت ركھے تو اسے روزہ ركھنے كا حكم ديا جائے گا تا كہ وہ روزہ ركھنے كى مشق كر سكے اور اس كا عادى بنے، اور بلوغت كے بعد اس كے ليے روزہ ركھنا آسان ہو سكے، صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم ـ جو كہ اس امت كے بہترين لوگ تھے ـ بچپن ميں ہى اپنے بچوں كو روزہ ركھوايا كرتے تھے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 19 / 28 - 29 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

سوال: ؟

ميرا چھوٹا بچہ رمضان المبارك كے روزے ركھنے پر اصرار كرتا ہے، حالانكہ چھوٹى عمر اور صحت كى خرابى كى بنا پر روزہ اسے ضرر ديتا ہے، تو كيا ميں اس كے ليے سخت رويہ اختيار كرسكتا ہوں تا كہ وہ روزہ نہ ركھے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" جب بچہ چھوٹا ہو اور بالغ نہ ہوا تو اس كے ليے روزہ ركھنا لازم نہيں ليكن اگر وہ بغير كسى مشقت كے روزہ ركھنے كى استطاعت ركھتا ہو تو اسے روزہ ركھنے كا حكم ديا جائے گا، صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين اپنے بچوں كو روزہ ركھوايا كرتے تھے، حتى كہ ان ميں سے چھوٹے بچے روتے تو وہ انہيں كھيلنے كے ليے كھلونے ديتے، ليكن اگر يہ ثابت ہو جائے كہ يہ اسے ضرر اور نقصان ديتا ہے تو اسے ايسا كرنے سے منع كيا جائے گا.

جب اللہ سبحانہ وتعالى نے ہميں بچوں كو ان كا مال اس خدشہ سے دينے سے منع كيا ہے كہ كہيں وہ اپنا مال خراب ہى نہ كر بيٹھيں، تو جسمانى ضرر اور نقصان كى بنا پر ہم بدرجہ اولى انہيں اس سے منع كرينگے.

ليكن انہيں سختى سے نہيں بلكہ اچھے اور بہتر طريقہ سے منع كيا جائے كيونكہ بچوں كى تربيت ميں سختى سے اجتناب كرنا چاہيے" انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 19 / 83 ).

دوم:

والدين كے ليے يہ ممكن ہے كہ وہ اپنى اولاد كو روزے ركھنے پر ابھارنے كے ليے ہر دن ہديہ اور تحفہ ديں، يا پھر ان كے دوستوں اور ان كے درميان آپس ميں مقابلہ بازى كى روح پيدا كريں اور جو ان سے چھوٹى عمر كے بچے ہيں ان كے مابين مقابلہ بازى، اور يہ بھى ممكن ہے كہ انہيں نماز كى ادائيگى پر ابھارنے كے ليے مسجد ميں ليجايا جائے، اور خاص كر جب وہ والد كے ساتھ نكل كر ہر روز مختلف مسجدوں ميں نماز ادا كرے.

اور اسى طرح يہ بھى ممكن ہے كہ روزہ ركھنے پر كوئى انعام ديا جائے چاہے يہ انعام ان كى تعريف كر كے يا پھر انہيں سيرو تفريح كے ليے ليجا كر يا پھر ان كى پسنديدہ اشياء كى خريدارى وغيرہ كى صورت ميں ديا جائے.

افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ كچھ والدين كى جانب سے اس سلسلے ميں بچوں كو روزہ پر ابھارنے كے ليے بہت كوتاہى ہوتى ہے، بلكہ بعض اوقات تو آپ كو ان عبادات ميں ركاوٹ ملے گى، اور بعض والدين يہ گمان كرتے ہيں كہ بچوں كے ساتھ شفقت اور مہربانى كرنے كا تقاضا يہ ہے كہ انہيں روزہ نہ ركھوايا جائے يا ان كے بچے نماز كى ادائيگى نہ كريں، حالانكہ شرعى اور تربيتى طور پر يہ بہت بڑى اور فحش غلطى ہے.

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ وتعالى نے ہر مكلف اور استطاعت ركھنے والے مقيم مسلمان پر روزے ركھنے فرض كيے ہيں، ليكن وہ چھوٹا بچہ جو ابھى بالغ نہيں ہوا اس پر روزہ فرض نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تين قسم ( كے افراد ) سے قلم اٹھا لى گئى ہے، اور اس ميں نابالغ بچہ ذكر كيا "

ليكن بچے كے ولى پر واجب ہوتا ہے كہ جب بچہ اس عمر كو پہنچے جب وہ روزہ ركھنے كى استطاعت ركھتا ہو تو اسے روزہ ركھنے كا حكم دے؛ كيونكہ اس سے اس كى اركان اسلام پر عمل كرنے كى مشق اور تربيت ہو گى، اور بعض لوگوں كو ديكھتے ہيں كہ وہ اپنے بچوں كو ويسے ہى چھوڑ ديتے ہيں اور انہيں نہ تو نماز ادا كرنے كى تلقين كرتے ہيں اور نہ ہى روزہ ركھنے كى، حالانكہ يہ بہت غلط ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كے ہاں اس نے اس كا جواب دينا ہے اور اس سے اس كى باز پرس ہو گى.

لوگ يہ خيال كرتے ہيں كہ وہ بچوں پر شفقت اور مہربانى كرتے ہوئے انہيں روزہ نہيں ركھواتے، حالانكہ حقيقت يہ ہے كہ اپنى اولاد پر شفقت اور مہربانى كرنے والا شخص تو وہ ہے جو انہيں خير و بھلائى اور نيكى كے كاموں كى مشق كروائے اور اس كى تربيت دے، نہ كہ وہ جو ان كى نفع مند تربيت كو ترك كر دے" انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 19 / 19 - 20 ).

سوم:

اور يہ بھى ممكن ہے كہ والدين اپنى اولاد كو روزاہ كچھ نہ كچھ قرآن مجيد حفظ كرنے اور تلاوت كرنے ميں مشغول ركھيں، اور اسى طرح وہ كتابيں جو ان كى عمر كے مناسب ہوں پڑھائيں، اور انہيں مختلف قسم كى مفيد كيسٹيں سنوائيں جس ميں ترانے اور تقارير وغيرہ ہوں، اور ان كے ليے مفيد قسم كى ويڈيو كيسٹيں دكھائيں، بچوں كے ٹى وى چينل " المجد " نے ان اشياء كو اكثر جمع كر ديا ہے، تو اس طرح روزانہ اس كے ليے كوئى خاص وقت متعين كر ليا جائے جس سے بچوں كو فائدہ ہو.

ہم سوال كرنے والى بہن كا بچوں كى تربيت ميں اہتمام كرنے پر شكر گزار ہيں، يہ مسلمان خاندان ميں خير وبھلائى كى دليل ہے، ليكن بہت سے لوگ اپنى اولاد كى ذہنى اور بدنى طاقت كو بہتر اور اچھے انداز سے پھلنے پھولنے كا موقع نہيں ديتے، بلكہ انہيں سست اور كاہل بنا كر دوسروں كے محتاج كر ديتے ہيں.

اور اسى طرح وہ انہيں نماز و روزہ جيسى عبادات كى عادت نہيں ڈالتے تو اس طرح بہت سى نسليں ايسے ہى بڑى ہوئيں اور بڑے ہو كر عبادت سے ان كے دلوں ميں نفرت پيدا ہو گئى، اور بڑى عمر كے ہو جانے كے بعد ان كے والدين كے ليے انہيں راہ راست پر لانا اور نصيحت كرنا مشكل ہو گيا، ليكن اگر وہ شروع ميں ہى اس معاملے كا خيال كرتے تو آخر ميں انہيں ندامت كا سامنا نہ كرنا پڑتا.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ ہمارى اولاد كى تربيت اور انہيں عبادت سے محبت پيدا كرنے ميں ہمارى مدد و نصرت فرمائے، اور جو كچھ ہم پر اولاد كے بارہ ميں واجب ہے اس كى ادائيگى كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

افطاری کے وقت دعا کرنا

سوال

روزے دار کی افطاری کے وقت دعا قبول ہوتی ہے لھذا یہ کب کرنی چاہۓ افطاری سے پہلے یا کہ افطاری کے دوران یا پھر افطاری کے بعد ؟ اور کیا کوئی اس وقت کی خاص دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اگر ہے تو وہ بتا دیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

مندرجہ بالا سوال شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کا جواب تھا :

دعا غروب شمس کے وقت افطاری سے قبل ہونی چاہۓ کیونکہ اس وقت اس میں عاجزی وانکساری اور تذلل جمع ہوتی ہے اور پھر وہ روزے سے بھی ہے اور یہ سب کے سب دعا کے قبول ہونے کے اسباب ہیں اور افطاری کے بعد تو انسان کا نفس راحت اور فرحت وخوشی میں ہوتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑ جائے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع کے لۓ ایک دعا ثابت ہے اگر تو یہ صحیح ہو تو پھر یہ افطاری کے بعد ہونی چاہۓ اور وہ یہ ہے :

( ذھب الظماء وابتلت العروق وثبت الاجر ان شاء اللہ )

پیاس چلی گئي اور رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ تعالی نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا ۔

سنن ابو داؤد اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ابو داؤد (2066) میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔

تو یہ افطاری کے بعد ہی ہو سکتی ہے ۔

اور اسی طرح بعض صحابہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ :

اے اللہ میں نے تیرے لۓ روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر افطار کیا ۔

اوراس کے علاوہ آپ جو مناسب سمجھیں وہ دعا بھی کر سکتے ہیں ۔

واللہ تعالی اعلم .

روزے کی صحیح ہونےکےلئےسحری کھاناشرط نہیں

سوال

اگرمیں رمضان کےعلاوہ جمعرات اورسوموارکاروزہ سحری کھانےکےبغیررکھناچاہوں توکیااس طرح روزہ رکھناجائز ہے ؟ کیونکہ میں سحری کےوقت نہیں اٹھ سکتا ۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

شیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی کا کہناہے کہ :

سحری کھاناروزے کےصحیح ہونے کےلئےشرط نہیں بلکہ ، سحری کھانامستحب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( سحری کھایا کروکیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے )۔

بخاری ومسلم ۔ .

ایک مریضہ کو نہار منہ دم کیا ہوا پانی پینا ہوتا ہے تو کیا روزہ نہ رکھے؟

سوال

میں روحانی بیمار ہوں، اور مجھے حصولِ شفا کے لیے نہار منہ کافی مقدار میں دم کیا ہوا پانی پینا ہوتا ہے تو کیا رمضان میں میرے لیے روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ ہے؟ واضح رہے کہ رمضان میں میرے پیپر بھی ہو رہے ہیں اور بیماری کی وجہ سے خدشہ ہے کہ میں امتحانات میں ناکام نہ ہو جاؤں!؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

جس کسی مریض کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو یا روزہ رکھنے کی وجہ سے شفایابی میں تاخیر ہو، یا کسی ماہر طبیب کی تجویز پر دن میں دوا لینا ضروری ہو تو پھر ایسے مریض کے لیے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم وہ بعد میں ان روزوں کی قضا دے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
ترجمہ: چنانچہ تم میں سے جو مریض ہو، یا سفر پر ہو تو دیگر ایام میں گنتی پورے کرے۔[البقرۃ: 184]

علامہ قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں :
"جمہور علمائے کرام کے مطابق: اگر کسی انسان کو بیماری لگی ہوئی ہو، اور روزہ رکھنے سے اسے درد ہو، یا تکلیف ہو، یا بیماری شدید ہو جانے کا خدشہ ہو، یا زیادہ ہونے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے۔" ختم شد
تفسیر قرطبی: (2/ 276)

یہ بھی ممکن ہے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے آپ کی بیماری آپ سے ٹل جائے؛ کیونکہ روزہ رکھنے سے شیطان کے لیے جسم کی رگوں میں دوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
"فرمانِ باری تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم پاک صاف بن جاؤ؛ اس لیے کہ روزہ رکھنے سے جسم کے فاضل مادے نکل جاتے ہیں، اور جسم میں شیطان کے لیے راہیں تنگ ہو جاتی ہیں۔" ختم شد

پھر دم کیا ہوا پانی نہار منہ پینے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ صبح کے وقت ہی پیا ہوا پانی نہار منہ ہو گا بلکہ اگر افطاری کے وقت بھی دم کیا ہوا پانی پی لیا جائے تو یہ بھی نہار منہ ہی ہے؛ اس لیے ہمیں یہ عذر ایسا نہیں لگتا کہ جس کی وجہ سے رمضان میں روزے چھوڑنے کی چھوٹ دی جائے۔

واللہ اعلم

رمضان میں قیام کا ثواب پانے کے لیے رمضان کی ساری راتوں میں قیام کرنا شرط ہے؟

سوال

اگر کوئی شخص رمضان کی ایک رات یا زیادہ راتیں قیام نہ کر سکے تو کیا وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان میں داخل ہو گا کہ: (جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کی امید سے قیام کرے تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں)، یا یہ ثواب پانے کے لیے رمضان کی تمام راتوں میں قیام کرنا لازم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص رمضان میں قیام کرے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید سے تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔) اس حدیث کو امام بخاری: (2009) اور مسلم : (759) نے روایت کیا ہے۔

اور حدیث کا ظاہر یہی ہے کہ رمضان کی ساری راتوں میں قیام ہونا چاہے یہ قیام مسجد میں با جماعت ہو یا گھر میں، لہذا جو بھی رمضان میں با جماعت قیام کرے یا اکیلے قیام کرے وہ اس میں شامل ہو گا چاہے مسجد میں قیام کرے یا گھر میں۔

علامہ صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہاں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد رمضان کی ساری راتوں کا قیام ہو، چنانچہ اگر کوئی شخص رمضان کی کچھ راتوں میں قیام کرے تو اسے مذکورہ مغفرت حاصل نہیں ہو گی، یہی مفہوم واضح طور پر درست ہے۔" ختم شد
"سبل السلام" (4/182)

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص رمضان میں قیام کرے) یعنی پورا ماہ رمضان آغاز سے لے کر انتہا تک مکمل مہینہ اس میں شامل ہے۔" ختم شد
"شرح بلوغ المرام" (3 / 290)

اسی طرح الشیخ ابن جبرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ماہِ رمضان میں قیام ہر رات کے کچھ حصے میں قیام کرنے سے ہو جائے گا، مثلاً: آدھی، یا ایک تہائی رات تک قیام کرنا چاہے یہ گیارہ رکعت پڑھ کر کیا جائے یا 23 رکعات پڑھ کر، اسی طرح اگر محلے کی مسجد میں امام ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں قیام کروا کر چلا جاتا ہے تو تب بھی رمضان کا قیام ہو جائے گا۔" ختم شد
فتاوی ابن جبرین: (24/ 9) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق

تاہم اگر کوئی شخص رمضان کی کچھ راتوں میں قیام کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہیں کر سکا تو امید ہے کہ مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ثواب درج ذیل حدیث کی وجہ سے اسے بھی ملے گا؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : (جب کوئی بندہ بیمار ہو جائے یا سفر پر ہو تو اس کے لیے اتنا ہی اجر لکھا جاتا ہے جتنا وہ حضر یا صحت کی حالت میں عمل کیا کرتا تھا۔) اس حدیث کو بخاری: (2996) نے روایت کیا ہے۔

علامہ قسطلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمان نبوی: (جو شخص رمضان میں قیام کرے) یعنی رمضان کی تمام راتوں میں قیام کرے یا کسی عذر کی وجہ سے کچھ راتوں میں کرے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تو وہ قیام ضرور کرتا۔" ختم شد
"ارشاد الساری" (3/425)

چنانچہ اگر کوئی شخص رمضان کی چند راتوں میں قیام سستی کی وجہ سے نہیں کرتا تو حدیث مبارکہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے مذکورہ فضیلت حاصل نہیں ہو گی۔

اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ نماز تراویح با جماعت مسجد میں ادا کرنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کوئی رکاوٹ کھڑی ہو جائے یا مصروفیت کی وجہ سے مسجد میں قیام رہ جائے تو پھر اپنے گھر میں ہی حسب استطاعت قیام کا اہتمام کرے۔

واللہ اعلم

کیا روزہ افطار کرتے ہوئے طاق عدد میں کھجوریں کھانا مستحب ہے؟

سوال

طاق عدد میں کھجوریں کھا کر روزہ افطار کرنا نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے؟ نیز طاق عدد میں کھجوریں کھانا صرف رمضان میں مسنون ہے یا غیر رمضان میں بھی سنت ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے دو مواقع کے علاوہ ایسا کہیں ثابت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم طاق عدد میں کھجوریں کھانے کا اہتمام کرتے ہوں:

پہلی جگہ: عید الفطر کی نماز کے لیے گھر سے نکلتے وقت۔

اس کی دلیل صحیح بخاری: (953) میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : (آپ صلی اللہ علیہ و سلم عیدالفطر کے دن نماز کے لیے اس وقت تک نہیں نکلتے تھے جب تک کھجوریں نہ کھا لیتے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے۔)

دوسری جگہ: نہار منہ سات کھجوریں کھانا۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص بھی نہار منہ سات عجوہ کھجوریں کھائے تو اس دن اسے زہر یا جادو نقصان نہیں دے گا۔) صحیح بخاری: (5445)، صحیح مسلم: (2047)

جبکہ روزہ افطار کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے اتنا تو ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تازہ یا خشک کھجوریں استعمال کرتے تھے، یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مخصوص تعداد میں کھجوریں کھانے کا اہتمام کیا ہو، یا طاق تعداد میں کھجوریں تناول فرمائی ہوں۔

نیز اس حوالے سے ذکر کی جانے والی روایت ضعیف ہے۔

جیسے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: (آپ صلی اللہ علیہ و سلم تین کھجوروں یا کسی ایسی چیز سے افطاری کرنا پسند کرتے تھے جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہو) مسند ابو یعلی: (3305)

لیکن یہ روایت صحیح نہیں ؛ضعیف ہے، دیکھیں: "سلسلة الأحاديث الضعيفة" از البانیؒ (966)

تو کچھ اہل نے صرف انہی چیزوں میں طاق عدد کا خیال رکھنے کو اختیار کیا ہے جن کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملتا ہے، اس کے علاوہ جگہوں میں طاق عدد کا خیال نہ رکھا جائے۔

چنانچہ الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"طاق عدد میں کھجوریں کھا کر روزہ افطار کرنا واجب بلکہ سنت بھی نہیں ہے کہ تین، پانچ، یا سات یا نو کھجوریں افطاری میں تناول کرے، صرف عید الفطر کے دن ثابت ہے؛ کیونکہ یہ ثابت ہے کہ: (آپ صلی اللہ علیہ و سلم عیدالفطر کے دن نماز عید کے لیے کھجوریں کھائے بغیر نہیں جاتے تھے اور آپ طاق عدد میں کھجوریں لیتے ۔) اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے طاق عدد میں کھجوریں کھانے کا اہتمام نہیں کیا۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" (11/ 2)

جبکہ کچھ اہل علم نے اس معاملے میں وسعت اختیار کی ہے، انہوں نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان: (یقیناً اللہ تعالی وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔)اس حدیث کو امام بخاری: (6410) اور مسلم : (2677) نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

اسی طرح مصنف عبد الرزاق: (5/ 498) میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے، پھر اس کے بعد امام عبد الرزاق کہتے ہیں: "ایوب کہتے ہیں: ابن سیرین ہر چیز طاق عدد میں استعمال کرنے کو مستحب سمجھتے تھے، حتی کہ کھانے کی چیزیں بھی طاق عدد میں استعمال کرتے۔" اس اثر کی سند صحیح ہے۔

اسی طرح "إعانة الطالبين" (2/278) میں ہے کہ:
"بہتر یہ ہے کہ روزہ تین کھجوروں سے افطار کرے، اور اگر کھجور نہ ہو تو کوئی بھی چیز تین عدد لے۔" ختم شد

علامہ الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:
"کیا طاق عدد کا اہتمام ہر قسم کی مباح چیزوں میں ہو گا؟ مثلاً: قہوہ وغیرہ پیتے ہوئے بھی؟ یا پھر صرف انہی چیزوں کو طاق عدد میں لیا جائے گا جس کے متعلق نص موجود ہے؟

تو آپ حفظہ اللہ نے جواب دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: تمام اقوال و افعال میں طاق عدد کا اہتمام کیا جائے یہ سنت ہے۔" ختم شد

اسی طرح الشیخ عبد الکریم الخضیر حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:
کیا کھانے پینے میں طاق عدد کا خیال رکھتے ہوئے بھی اللہ تعالی کی عبادت ہو سکتی ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"جی ہاں، ہو سکتی ہے؛ لہذا جب کھجوریں وغیرہ کھائے تو طاق عدد میں تین، سات طاق عدد میں کھائے؛ کیونکہ اللہ تعالی وتر ہے اور وتر پسند فرماتا ہے۔ " ختم شد

ایسے موقع پر طاق عدد کا اہتمام کرنے والا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عیدالفطر کے دن طاق کھجوروں کا اہتمام کرنے کو دلیل بنا سکتا ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہار منہ طاق عدد میں کھجوریں لینے کی ترغیب دلائی ہے، تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے طاق عدد میں تازہ اور خشک کھجور عید الفطر کے دن منتخب کی ہیں تو اسی طرح افطاری کے وقت بھی یہی معاملہ ہونا چاہیے۔

تاہم اس حوالے سے ان شاء اللہ وسعت ہے، لہذا اگر کوئی شخص طاق عدد اپنائے کہ سابقہ عمومی دلائل اس کی ترغیب میں آ سکتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مذکورہ جگہوں میں عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے، یا پھر طاق عدد میں کھجوریں لینے کے متعلق مخصوص حدیث ضعیف ہونے کے باوجود بھی اسے دلیل بنائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ تازہ یا خشک کھجوروں سے روزہ افطاری کسی بھی طرح سے ہو سکتی ہے اس کے لیے طاق عدد کا اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خصوصی طور اس کا اہتمام ثابت نہیں ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

واللہ اعلم

روزہ دار کے منہ کے چھالوں کے علاج کے لیے سٹیرایڈ مرہم لگانے کا کیا حکم ہے؟

وال

رمضان میں روزے کی حالت میں منہ کے السر کے علاج کے لیے منہ میں سٹیرایڈ مرہم لگانے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

روزے دار کے لیے سٹیرایڈ مرہم منہ میں نکلنے والے چھالوں کا علاج کرنے کے لیے لگانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ مرہم منہ میں حل ہو جاتی ہے اور تھوک کے ساتھ مل کر حلق سے نیچے اتر جاتی ہے، چنانچہ اس کو نگلنے سے بچنا ممکن نہیں ہے۔

نیز ان چھالوں کی وجہ سے اتنی تکلیف اور مشقت بھی نہیں ہوتی کہ ان کی وجہ سے روزہ توڑنے کی رخصت دی جائے۔

علامہ نووی رحمہ اللہ "المجموع" (6/261) میں کہتے ہیں:
"کوئی ایسا مریض جو روزہ نہیں رکھ سکتا اور اس کی بیماری سے شفا یابی بھی ممکن ہے تو اس کے لیے روزہ رکھنا لازم نہیں ہے ۔۔۔ یہ اس وقت ہے جب روزہ رکھنے سے واقعی سخت تکلیف ہو۔ اس کے لیے یہ شرط نہیں لگائی جاتی کہ روزہ رکھنے سے اس کی حالت اتنی بگڑ جائے کہ روزہ جاری نہ رکھ پائے، بلکہ ہمارے فقہائے کرام نے روزہ خوری کی شرط یہ بیان کی ہے کہ: روزہ رکھنے سے اتنی تکلیف ہو کہ جسے برداشت کرنا مشکل ہو۔" ختم شد

انہوں نے مزید کہا کہ:
"جبکہ معمولی بیماری جس کی وجہ سے مریض کو واضح تکلیف اور مشقت نہ ہو تو اس کے لیے ہمارے ہاں بلا اختلاف روزہ چھوڑنے کی چھوٹ نہیں ہے۔" ختم شد
"المجموع"(6/261)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (188934 ) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

رمضان کے پورے مہینہ میں عمرہ کرنا مستحب ہے

سوال

کیا رمضان کے آخری عشرہ میں عمرہ کرنا مستحب ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں عمرہ کرنے کی رغبت دلائي ہے حدیث میں ہے کہ :

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1782 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1256 ) ۔

یہ حدیث مکمل رمضان کے مہینہ کو شامل ہے نہ کہ آخری عشرہ کے ساتھ خاص ۔

واللہ اعلم  .

سرکاری ملازم کو کام جلدی کرنے کے لیے پیسے دے سکتا ہے؟

سوال

میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہوں، میرے ذمے اس کمپنی کے قانونی معاملات دیکھنا ہے، ہمارے ملک میں سرکاری ملازمین کام نہیں کرتے اور تھوڑے سے کام کے لیے آئندہ روز یا اس سے بھی لیٹ آنے کا کہتے ہیں چاہے معاملہ صرف ایک دستخط کا ہی کیوں نہ ہو، اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مجھے مجبورا انہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے پھر وہ فوری کام کر بھی دیتے ہیں، وگرنہ معاملات ہفتوں لیٹ ہو جاتے ہیں، اور تاخیر کی وجہ سے میری کمپنی کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے، واضح رہے کہ میرے تمام کام قانونی ہوتے ہیں اور ان میں کسی قسم کی قانون شکنی نہیں ہوتی۔ میں نے اس بارے میں اہل علم سے دریافت کیا تو مجھے کہا گیا کہ: یہ رشوت نہیں ہے؛ کیونکہ آپ تو اپنا حق لے رہے ہیں اور پیسے دے کر اپنے آپ کو ظلم سے بچا رہے ہیں، پھر نہ تو آپ سفید کو سیاہ بناتے ہیں اور نہ ہی سیاہ کو سفید کرتے ہیں۔ تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ واضح رہے کہ اگر میں پیسے دے کر کام کروانا چھوڑ دوں تو مجھے کمپنی سے نکال دیا جائے گا، اور کمپنی کے مفادات کو بھی نقصان ہو گا۔

روزہ غروب شمس تك ہے نا كہ جيسے شيعہ حضرات كہتے ہيں

سوال
ميرا سوال روزے اور افطارى كے بارہ ميں ہے، ميرى پڑوسيوں سے بات ہوئى جو كہ شيعہ مسلك سے تعلق ركھتے ہيں انہوں نے مجھے آيت كريمہ پڑھ كر سنائى جس ميں اللہ نے فجر سے ليكر رات تك روزہ پورا كرنے كا حكم ديا ہے، نہ كہ غروب شمس تك، ان پڑوسيوں كا يہى كہنا تھا، برائے مہربانى مجھے اس كے بارہ ميں معلومات فراہم كريں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے

خاتون نے روزے کی نیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر حیض آ گیا تو روزہ چھوڑ دے گی، تو کیا یہ معلق نیت ہے؟ اور کیا اس کا روزہ صحیح ہو گا؟

سوال
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صبح حیض شروع ہو جائے، تاہم پھر بھی میں نے روزے کی نیت کر لی اور کہا کہ میں صبح رمضان کا روزہ رکھوں گی اور اگر حیض شروع ہو گیا تو میں روزہ چھوڑ دوں گی، تو کیا اس طرح کی معلق نیت کرنے سے میرا روزہ باطل ہو جائے گا یا صحیح ہو گا؟
جواب کا متن
الحمد للہ.
روزے کی پختہ نیت فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص فجر سے پہلے روزے ارادہ نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں )، اس حدیث کو ابو داود: (2454) ، ترمذی: (730) اور نسائی: (2331) نے روایت کیا ہے، اور نسائی کے الفاظ ہیں کہ: (اور جو شخص فجر سے پہلے رات کو روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ہے۔) اس حدیث کو البانی نے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔
چنانچہ اگر عورت طہر میں تھی اور اس نے صبح روزہ رکھنے کی نیت کی اور کہا: اگر حیض آ گیا تو میں روزہ چھوڑ دوں گی، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ نیت کو معلق کرنے صورت نہیں ہے؛ یہاں اس کی روزہ رکھنے کی نیت پختہ ہے۔

اگر نمازوں کے اوقات کار کیلنڈر نماز فجر اور مغرب کا الگ الگ وقت متعین کرتے ہوں تو پھر نماز اور روزے کے لیے محتاط موقف اپنایا جائے گا۔

سوال

میں اس وقت فن لینڈ میں ہوں، یہاں پر نماز کے لیے متفقہ کیلنڈر موجود نہیں ہے، تو اس لیے مجھے ایک سے زیادہ اداروں کی جانب سے شائع کیے گئے نمازوں کے اوقات کار تلاش کرنے پڑے، اور پھر میں نے ایسے نمازوں کے اوقات کار کو ایک طرف کر دیا جو دیگر کیلنڈروں کے متفقہ وقت سے متصادم تھے،  یعنی میرا مطلب یہ ہے کہ جب کسی ایک ادارے کے شائع کردہ کیلنڈر میں نماز فجر کا وقت یہ بتلایا گیا کہ تین بجے کے بعد ہے، اور دیگر تمام  کیلنڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نماز فجر کا وقت تین بجے صبح سے پہلے ہوتا ہے؛ تو چونکہ معاملہ روزے کا ہے تو اس لیے میں نے محتاط وقت کو اپنایا، اور محتاط وقت کیلنڈر شائع کرنے والے اداروں میں سے کم نے بتلایا ہے،  اس کے ساتھ ساتھ میں نے مغرب کی اذان کے وقت کے بارے میں بھی خیال کیا ہے، چنانچہ جس کیلنڈر کو میں نے فجر کے وقت  کے لیے معتبر نہیں سمجھا مغرب کے وقت کے لیے وہ  دیگر کیلنڈروں سے تاخیر کے ساتھ مغرب کا وقت بتلاتا ہے، اس لیے مغرب کے لیے احتیاطی موقف کو اپناتے ہوئے میں ان شاء اللہ اسی پر اعتماد کروں گا۔

اب سوال یہ ہے کہ: جو احتیاطی تدابیر میں نے اختیار کی ہیں کیا  یہ قابل قبول ہیں؟ نیز اس سے بھی زیادہ اہم سوال وہ یہ ہے کہ  اگر فجر کی اذان کے لیے میں جلدی والا وقت معتبر سمجھتا ہوں  تو کیا میں اسی وقت میں نماز فجر پڑھ سکتا ہوں؟ یا پھر میں اس وقت کا انتظار کروں جسے میں نے سحری کے لیے غیر معتبر قرار دیا ہے،  واضح رہے کہ اگر میں انتظار کرتا ہوں تو پھر میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاؤں گا کہ کیسے سحری کے لیے الگ وقت ہو اور نماز فجر کے لیے الگ وقت،  کیونکہ پھر میرے ذہن میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ فجر کے متاخر وقت کے مطابق پہلے وقت پر سحری سے رک گیا ہوں تو اس میں غلطی کا امکان موجود ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ : میں آخر کار اس نتیجے پر پہنچوں گا کہ نماز کے معتبر وقت سے پہلے سحری سے رک جانا  

کیا عورت کو روزہ افطار کروانے کا اجر ملے گا کیونکہ وہ گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرتی ہے؟

سوال
کیا عورت کو افطاری کا سامان تیار کرنے کی وجہ سے روزہ افطار کروانے کا اجر ملے گا؟ یا یہ ضروری ہے کہ افطاری کا سامان بھی وہ خود ہی خرید کر لائی ہو؟
جواب کا متن

روزہ تو رکھ لیا لیکن گمان ہے کہ تجدید نیت نہیں کر سکا

سوال
اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے سونے سے پہلے یہ نیت کی کہ وہ پورے مہینے کے روزے رکھے گا، لیکن جب وہ صبح سحری کے لیے بیدار ہوا تو اسے بتلایا گیا کہ ابھی رمضان شروع نہیں ہوا ابھی شعبان کی تیس تاریخ ہے، پھر آئندہ صبح کو اس شخص نے نیت کی تجدید نہیں کی اور پورا ماہ رمضان ایسے ہی گزر گیا؟
جواب کا متن

روزے میں نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت ہے

سوال
برصغیر پاک وھند میں روزے کی نیت اس طرح کی جاتی ہے :
اے اللہ میں تیرے لیے یقینی روزے کی نیت کرتا ہوں میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادے ۔
اوریہ بھی کہا جاتا ہے : وبصوم غد نویت شھررمضان ۔ میں رمضان کے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں ۔
مجھے اس کے معنی ومراد کا علم نہیں ، لیکن کیا یہ نیت کرنی صحیح ہے ، اوراگر ایسا کرنا صحیح ہے توآپ سے گزارش ہے کہ اس کے معنی کی وضاحت کریں یا پھر قرآن وسنت میں سے صحیح نیت بتائيں ؟
جواب کا متن

رمضان میں دن کے وقت کافروں کو کھانا فروخت کرنے کا حکم

سوال
سبزی، پھل اور پنیر وغیرہ رمضان میں دن کے وقت فروخت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر گاہک یا خریدار مسلمان نہیں ہے تو یہ فطری چیز ہے کہ وہ ان چیزوں کو افطاری کے وقت سے پہلے کھائے گا!
جواب کا متن
الحمد للہ.
جس شخص کے بارے میں ظن غالب ہو یا یقین ہو کہ وہ کھانے کی چیز رمضان میں دن کے وقت کھا لے گا، تو اسے کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ مسافر اور مریض وغیرہ جن کا شرعی عذر ہے انہیں فروخت کر سکتا ہے، نیز اس حکم میں مسلمان یا کافر کا کوئی فرق نہیں ہے؛ کیونکہ کفار بھی راجح موقف کے مطابق شریعت کے فروعی مسائل پر عمل پیرا ہونے کے پابند ہیں، اس لیے ان کیلیے بھی رمضان میں دن کے وقت کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہے، نہ ہی ان کی اس معاملے میں معاونت کی جا سکتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ان معاصى كے سائے ميں روزے كى حفاظت كيسے كى جائے ؟

سوال
ان معاصى كے سائے ميں اپنے روزے كى حفاظت كيسے كى جائے ؟

الحمد للہ.

ميرے بھائى آپ نے يہ سوال كر كے انتہائى اچھا كيا ہے يہ اس كى دليل ہے كہ آپ اللہ كى اطاعت كى حرص ركھتے ہيں اور اس وقت منتشر معاصى كے سبب اطاعت ضائع ہونے يا اس ميں كمى
ہونے سے بچنا چاہتے ہيں.

روزے دار کے لیے ناک کے ذریعے مرہم استعمال کرنے کا حکم

سوال
مجھے ناک میں الرجی ہے، میں نے ناک کے ذریعے اسپرے لینے کے حوالے سے سوالات کے جوابات کا مطالعہ کیا ہے اور ان میں آپ نے بتلایا ہے کہ ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن میرا سوال اسپرے کی بجائے مرہم سے متعلق ہے، کیا یہ بھی ناک کے ذریعے استعمال کی جا سکتی ہے؟ اور کیا اسے استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب کا متن
الحمد للہ.

الحمدللہ مجھے ہرمہينہ ايام بيض ( چاند كي تيرہ چودہ پندرہ تاريخ ) كے روزے ركھنے كي عادت ہے، ليكن

الحمدللہ مجھے ہرمہينہ ايام بيض ( چاند كي تيرہ چودہ پندرہ تاريخ ) كے روزے ركھنے كي عادت ہے، ليكن اس ماہ ميں نے روزے نہيں ركھے اورجب ميں نے روزے ركھنے چاہے تو مجھے يہ كہا گيا كہ يہ جائزنہيں بلكہ يہ بدعت ہے ، ( ميں نے ماہ كےپہلے سوموار كا روزہ ركھا اور پھر انيس شعبان بروز بدھ كا بھي روزہ ركھا ہے اور اللہ كےحكم سے كل جمعرات كا بھي روزہ ركھنا ہے تو اس طرح ميرے تين روزے ہوجائيں گے ) لھذا اس كا حكم كيا ہے ؟ اور شعبان كےمہينہ ميں كثرت سے روزے ركھنے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

اگر نمازوں کے اوقات کار کیلنڈر نماز فجر اور مغرب کا الگ الگ وقت متعین کرتے ہوں تو پھر نماز اور روزے کے لیے محتاط موقف اپنایا جائے گا۔

سوال

میں اس وقت فن لینڈ میں ہوں، یہاں پر نماز کے لیے متفقہ کیلنڈر موجود نہیں ہے، تو اس لیے مجھے ایک سے زیادہ اداروں کی جانب سے شائع کیے گئے نمازوں کے اوقات کار تلاش کرنے پڑے، اور پھر میں نے ایسے نمازوں کے اوقات کار کو ایک طرف کر دیا جو دیگر کیلنڈروں کے متفقہ وقت سے متصادم تھے،  یعنی میرا مطلب یہ ہے کہ جب کسی ایک ادارے کے شائع کردہ کیلنڈر میں نماز فجر کا وقت یہ بتلایا گیا کہ تین بجے کے بعد ہے، اور دیگر تمام  کیلنڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نماز فجر کا وقت تین بجے صبح سے پہلے ہوتا ہے؛ تو چونکہ معاملہ روزے کا ہے تو اس لیے میں نے محتاط وقت کو اپنایا،

جس شخص پر رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کا کفارہ ہو تو وہ کفارہ دینے سے پہلے اور ساٹھ روزوں کی راتوں میں جماع کر سکتا ہے۔

سوال

ایک سوال کا جواب میں اپنی سہیلی کو بتانا چاہتی ہوں، مجھے یہ تو معلوم ہے کہ رمضان میں دن کے وقت جماع کا کفارہ ظہار کے کفارے جیسا ہے، لیکن  کیا خاوند پر کفارہ دینے سے پہلے اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرنا بھی حرام ہو گا  جیسے کہ ظہار کے کفارے میں ہوتا ہے؟ یا پھر رمضان میں دن کے وقت جماع پر کفارے کی صورت اس چیز میں مختلف ہو گی کہ وہ کفارہ دینے سے پہلے بھی اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے؟

فقہ صیام

bookTittleImage

تفصیل کتاب


کتاب کا نام: فقہ صیام
مصنف :  عبد الہادی عبد الخالق مدنی
ناشر:  احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
صفحات:  66
Click on image to Enlarge

فہرست 


عناوین

صفحہ نمبر

رمضان کے فضائل

4

ماہ رمضان کے داخل ہونے کے ثبوت کے ذرائع

6

صوم کا لغوی وشرعی معنی

8

صوم کی مشروعیت

8

صوم کے فضائل

10

صوم کے فوائد

11

کن لوگوں پر صوم واجب ہے؟

 

صیام کے ارکان

 

صیام کی سنتیں

 

صیام کو فاسد کرنے والے امور

 

کن لوگوں کو رمضان میں صوم نہ رکھنے کی اجازت ہے؟

 

رمضان میں بعض فضیلت والےاعمال

 

تلاوت اور صدقہ کی فضیلت

 

افطار کروانے کی فضیلت

 

رمضان میں عمرہ کی فضیلت

 

شب قدر کی فضیلت

 

اعتکاف کی فضیلت

 

ضمیمہ بابت صدقہ فطر وعیدالفطر

 

صوم واجب

 

نفلی صوم

 

ممنوع صیام

 

 


رمضان المبارک فضائل، فوائد و ثمرات ، احکام و مسائل اور کرنے والے کام

bookTittleImage

تفصیل کتاب


کتاب کا نام:رمضان المبارک فضائل، فوائد و ثمرات ، احکام و مسائل اور کرنے والے کام
مصنف :  حافظ صلاح الدین یوسف
ناشر:  دار السلام، لاہور
صفحات:  90
Click on image to Enlarge

فہرست 


عناوین

صفحہ نمبر

عرض ناشر

8

روزوں کی فضیلت احادیث صحیحہ کی روشنی میں

13

رمضان کے روزوں کی خصوصی فضیلت

19

رمضان کی فضیلت میں بعض ضعیف روایات

22

روزے کے فوائد وثمرات

26

تقوی کے حصول اور تقوی کے ثمرات

26

تقوی کے ثمرات وفوائد

28

لمحہ فکریہ اور دعوت غور وفکر

30

روزہ نفس کی سرکشی کا زور توڑنے میں مددگار عمل ثابت ہوتا ہے

31

روزے سے صبر کا وصف راسخ ہوتا ہے

32

روزے سے اخوت وہمدردی کا احساس اجاگر ہوتا ہے

33

روزہ اخلاق وکردار کی بلندی پیدا کرتا ہے

34

روزے داروں کے لیے وعید

35

احکام ومسائل

37

روزے کی اہمیت

37

روزے کا وجوب

37

روزے کی تعریف

38

روزے کا مقصد

38

مختلف حالات اور اعتبارات سے لوگوں کی قسمیں

40

روزے کے ضروری احکام

42

وجوب نیت

42

روزے کا وقت

42

سحری ضرور کھائی جائے

43

روزہ کھولنے میں جلدی کرنا

44

روزہ کس چیز سے کھولا جائے

45

قبولیت دعا کا وقت

45

افطاری کے وقت کون سی دعا پڑھی جائے

46

روزہ کھلوانے کا ثواب

46

روزے دار کے لیے حسب ذیل چیزوں سے اجتناب ضروری ہے

47

جھوٹ سے

47

لغو اور رفث سے

47

لغو

48

رفث کا مطلب

48

روزے دار کے لیے کون کون سے کام جائز ہیں

49

کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

53

قضا کے بعض مسائل

55

بے نمازی کا روزہ مقبول نہیں

56

قیام اللیل یعنی نماز تراویح کے بعض مسائل

57

صدقۃ الفطر کے ضروری مسائل

62

رمضان المبارک میں کرنے والے کام

65

ہم رمضان المبارک کا استقبال کیسے کریں

67

رمضان المبارک کے خصوصی اعمال ووظائف

67

روزہ

67

قیام اللیل

69

صدقہ وخیرات

70

روزے کھلوانا

71

کثرت تلاوت

72

تلاوت قرآن میں خوف وبکا کی مطلوبیت

73

اعتکاف

76

اعتکاف کے ضروری مسائل

77

لیلۃ القدر کی تلاش

78

آخری عشرے میں نبی کا معمول

79

لیلۃ القدر کی خصوصی دعا

80

رمضان المبارک میں عمرہ کرنا

80

کثرت دعا کی ضرورت

82

ایک دوسرے کے حق میں غائبانہ دعا کی فضیلت

85

بددعا سے اجتناب کیا جائے

85

مظلوم کی آہ سے بچو

86

حق تلفیوں کا ازالہ اور گناہوں سے اجتناب کریں

86

اپنے دلوں کو باہمی بغض وعناد سے پاک کریں

87