بيوى اپنے چچا زاد كے ساتھ معاملات ميں تساہل سے كام ليتى ہے

ميرى بيوى اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئى اور وہاں جا كر رات تين بجے تك اكيلے ہى اپنے چچازاد بيٹے كے ساتھ بيدار رہتى، اور دو بار اس نے اس كے سوئے ہوئے كى تصوير بھى اتارى اور ايك بار اس كا بوسہ بھى ليا، ہميشہ اس كے پہلو ميں بيٹھتى، اس عمل سے ميرى بيوى كے چچازاد بيٹے كى بيوى بہت پريشان تھى، اور اسى طرح ميں بھى پريشان رہا ميں نے اسے بتايا كہ تم جو كچھ كر رہى ہو وہ غلط ہے اور شرعا جائز نہيں.
ميرى بيوى دينى التزام كرتى ہے، ميں نے اسے اس كے چچا زاد بيٹے سے زائد دين كا التزام كرنے والا پايا ہے، اور وہ بھى زائد التزام كرتى ہے، ہمارے مابين اس موضوع كے بارہ ميں كچھ اختلاف پيدا ہو گئے ہيں.
ميرى بيوى كا كہنا ہے كہ وہ اس كے بھائى كى طرح ہے يہ علم ميں رہے كہ ميرى بيوى كى عمر تينتاليس 43 برس اور اس كے چچازاد كى عمر تينتيس 33 برس ہے، اور اب وہ كہتى ہے كہ اس نے كوئى غلط كام نہيں كيا.
جب ميں ان كے پاس گيا تو ان كے اكثر معاملات مجھے پسند نہيں آئے، اب ميں اپنے اس معاملہ ميں پريشان رہتا ہوں وہ كہتى ہے تم ميرے بچوں كے باپ ہو، اور وہ ميرا چچازاد ہے اس كے علاوہ كچھ نہيں.
اس سلسلہ ميں اب ہمارے اختلافات اور بھى زيادہ ہو گئے ہيں اور ممكن ہے نتيجہ طلاق تك پہنچ جائے، ہمارے پانچ بچے بھى ہيں برائے مہربانى آپ يہ بتائيں كہ اس نے جو كچھ كيا ہے كيا وہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

دين اسلام نے مرد كے ليے ايك اجنبى عورت كے ساتھ معاملات كرنے كے اصول و ضوابط مقرر كيے ہيں، اس ليے آنكھيں نيچى ركھنے كا حكم ديا گيا ہے، اور اسى طرح اجنبى مرد و عورت كى خلوت بھى حرام ہے، اور اجنبى عورت سے مصافحہ كرنا بھى منع كيا گيا ہے.

اور عورت كو حكم ديا گيا ہے كہ وہ اپنا سارا بدن چھپا كر ركھے، اور بات چيت لہك لہك كر نرم لہجہ ميں مت كرے، اس طرح معاشرہ بالكل صاف اور شفاف بن جاتا ہے، اور خاندان بھى سليم و محفوظ رہتا ہے، اور شر و فساد اور برائى كے سارے دروازے بند ہو جاتے ہيں.

اس سلسلہ ميں آپ كو كتاب و سنت كى نصوص و دلائل سوال نمبر ( 10744 ) كے جواب ميں مل سكتے ہيں آپ اس كا مطالعہ كريں.

بلاشك و شبہ آپ كى بيوى نے ان حدود سے تجاوز كر كے اپنے چچازاد كا بوسہ لے كر اور اكيلے دونوں كا رات بيدار رہ كر حرام كردہ عمل كا ارتكاب كيا ہے، بلكہ ايك اجنبى شخص سے نظريں نيچى نہ ركھنا فى ذاتہ معصيت و گناہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مومن مرد و عورت دونوں كو ہى نظريں نيچى ركھنے كا حكم ديا ہے.

يہ دليل دے كر كہ چچازاد بھائى كى طرح ہے اس طرح كے امور ميں تساہل سے كام ليا ايك بہت بڑى قبيح غلطى ہے، اس طرح كتنے ہى خاندان ايسے ہيں جو مصيبت كا شكار ہو چكے ہيں، اس ليے چچازاد بيٹا بھى عورت كے ليے باقى اجنبى مردوں كى طرح ہى ايك اجنى شخص ہے.

بلكہ اس كا ضرر و نقصان تو باقى مردوں سے زيادہ شديد ہو سكتا ہے، كيونكہ اس كے ساتھ معاملات ميں تساہل برتا جاتا ہے، اور اسى طرح خاوند كے باقى رشتہ دار مردوں كے بارہ ميں بھى مثلا ديور اور خاوند كا چچا زاد.

اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تھا:

" تم عورتوں كے پاس جانے سے اجتناب كيا كرو.

ايك انصارى شخص نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ذرا خاوند كے رشتہ دار مرد كے متعلق تو بتائيں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ ديور تو موت ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5232 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2172 ).

ليث بن سعد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الحمو سے مراد خاوند كا رشتہ دار مرد چچازاد وغيرہ ہے.

امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں رقمطراز ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" ديور تو موت ہے " كا معنى يہ ہے كہ دوسرى كى بجائے اس سے زيادہ خطرہ ہے، اور اس سے زيادہ شر و برائى متوقع ہے اس ليے كہ اس كا عورت كے پاس بغير كسى تنكير كے جانا ممكن ہونے كى بنا پر زيادہ فتنہ بن سكتا ہے، ليكن ايك دوسرا اجنبى شخص ايسا نہيں.

يہاں حمو سے مراد ہر وہ مرد ہے جو خاوند كے باپ دادا اور بيٹوں كے علاوہ دوسرا رشتہ دار ہو، كيونكہ خاوند كا والد اور دادا اور بيٹے يہ بيوى كے محرم ہيں ان كے ساتھ خلوت جائز ہے، انہيں موت كا وصف نہيں ديا جائيگا، بلكہ اس سے مراد بھائى اور بھائى كا بيٹا، چچا اور چچازاد وغيرہ دوسرے غير محرم رشتہ دار ہيں.

عام طور پر لوگ ان كے بارہ ميں تساہل اور سستى سے كام ليتے ہيں تو يہى موت ہے، حالانكہ دوسرے اجنبى شخص سے بالاولى ان سے ممانعت پائى جاتى ہے جيسا كہ ہم اوپر بيان كر چكے ہيں " انتہى

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 13261 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

جب عورت اپنے رشتہ داروں سے اپنا چہرہ نہيں چھپاتى تو يہ خلوت اور ان سے نرم لہجہ ميں بات چيت اور مصافحہ سے كم نہيں.

آپ پر واجب ہے كہ اس مسئلہ ميں اپنى بيوى كے سامنے حلال و حرام كى حدود واضح كر ديں، اور اسے اور اس كے چچا زاد كو نصيحت كريں كہ وہ قابل مذمت تساہل سے باز آ جائے اور اجتناب كرے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے آپ سے آپ كى ذمہ دارى اور رعايا كے بارہ ميں باز پرس كرنى ہے، اور آپ اپنى بيوى كو آگ سے محفوظ ركھنے كے مامور ہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے اہل و عيال كو جہنم كى آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، اس پر ايسے شديد قسم كے فرشتے مقرر ہيں جو اللہ كے حكم نافرمانى نہيں كرتے، اور وہى كرتے ہيں جو انہيں حكم ديا جائے }التحريم ( 6 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے ہر ايك ذمہ دار اور حاكم ہے اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں باز پرس كى جائيگى، حكمران ذمہ دار اور حاكم ہے، اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں بازپرس كى جائيگى، اور آدمى اپنے گھر والوں كا حاكم ہے، اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں بازپرس كى جائيگى، اور عورت اپنے خاوند كے گھر ميں حاكم ہے اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں سوال كيا جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 853 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1829 ).

اور ايك حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى نے جسے بھى كسى رعايا كا ذمہ دار بنايا اور وہ جس دن مرے تو وہ اپنى رعايا سے دھوكہ كر رہا ہو تو اللہ تعالى اس پر جنت حرام كر ديگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6731 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 142 ).

آپ كى بيوى سے اميد كى جاتى ہے كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالى كى شريعت كے حكم كو تسليم كرتے ہوئے اپنے چچازاد كے ساتھ معاملات كو ويسے ہى اپنائے جو اس كے پروردگار كو راضى كرے، اور اپنے خاوند كى خيانت مت كرے، اور پھر عقلمند خاتون تو اپنے خاوند كى رغبت ميں مباح چيز بھى ترك كر ديتى ہے، اس ليے اسے حرام كام تو بالاولى ترك كرنا چاہيے.

اللہ سبحانہ و تعالى سب كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جنہيں اللہ پسند فرماتا ہے، اور جن سے راضى ہوتا ہے.

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ