ايك بچے كو دودھ پلانے كے بعد طلاق اور دوسرى شادى سے اولاد ميں رضاعى رشتہ

 

 

 

عورت نے ايك مرد سے شادى كى اور اس كا ايك بيٹا پيدا ہوا اس كے ساتھ اس نے كسى دوسرے بچے كو دودھ پلايا اور دو برس كے دوران ايك بار سے زيادہ ايسا ہوا، پھر اس كے خاوند نے اسے طلاق دے دى اور اس نے كسى دوسرے مرد سے شادى كر لى اور اس سے اس كے بيٹے اور بيٹياں پيدا ہوئيں، اور اس كے پہلے خاوند نے بھى كسى اور عورت سے شادى كر لى اور اس سے بيٹے اور بيٹياں ہوئيں سوال يہ ہے:
جب يہ رضاعت صحيح ہو تو اس رضاعى بچے كے رضاعى بھائى كون ہونگے اس عورت كى دوسرے خاوند سے اولاد يا كہ اس شخص كى دوسرى بيوى سے جو اولاد ہے ؟
دوسرا سوال:
دودھ پلانے والى عورت كے صرف والد كى جانب سے بہن اور بھائى ہيں، كيا يہ اس رضاعت سے رضاعى ماموں اور خالہ شمار ہونگے ؟
اس طرح وہ بچہ ان سے سلام لے سكتا ہے اور ان سے مصافحہ كر سكتا ہے اور ان سے مل سكتا ہے ؟
اس دودھ پلانے والى عورت كى ماں ہے كيا يہ اس كى رضاعى نانى بن جائيگى، اور كيا اس كے ليے اس سے مصافحہ اور سلام كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

جب بچہ يا بچى كسى عورت كا دودھ چھڑانے كى عمر سے قبل پانچ رضاعت دودھ پى لے تو وہ اس كا رضاعى بيٹا بن جائيگا اور اس كا خاوند جس كى وطئى كى وجہ سے يہ دودھ آيا تھا وہ اس كا رضاعى باپ بن جائيگا، اس ميں مشہور آئمہ كا اتفاق ہے.

اور جب مرد اس بچے كا رضاعى باپ بن گيا تو اس كى سارى اولاد اس بچے كے بہن بھائى ہوئے، چاہے وہ اولاد اس بچے كى رضاعت سے قبل پيدا ہوئے ہوں يا اس كى رضاعت كے بعد اور چاہے وہ دودھ پلانے والے بيوى سے ہوں يا اس كے علاوہ كسى دوسرى بيوى سے.

اسى طرح وہ عورت بچے كى رضاعى ماں بن گئى اور اس كى سارى اولاد اس كے رضاعى بہن بھائى ہوئے، چاہے وہ رضاعت سے قبل پيدا ہوئے يا بعد ميں، اور چاہے وہ اس خاوند سے نكاح كے وقت ہوئے جس كا وہ دودھ تھا يا اس كے علاوہ كسى دوسرے سے شادى كے بعد.

اس سے آپ يہ جان سكتى ہيں كہ عورت كى دوسرے خاوند سے پيدا ہونے والى اولاد، اور اس كے پہلے خاوند كى دوسرى بيوى سے پيدا ہونے والى اولاد يہ سب اس بچے كے رضاعى بہن بھائى ہيں.

دوم:

دودھ پلانے والى عورت كى بہنيں اور بھائى دودھ پينے والے بچے كى رضاعى خالہ اور ماموں شمار ہونگے، چاہے وہ دودھ پلانے والى عورت كے سگے بہن بھائى ہوں يا صرف باپ كى جانب سے يا صرف ماں كى جانب سے.

سوم:

دودھ پلانے والى عورت كى ماں بچے كى رضاعى نانى بن جائيگى.

رضاعى بہن بھائى اور خالہ اور ماموں اور نانى كے ليے اس بچے سے ملنے اور اس سے مصافحہ كرنے اور اس كے سامنے آنے ميں كوئى حرج نہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب مرد اور عورت دودھ پينے والے بچے كے رضاعى والدين ہوئے تو ان دونوں كى سارى اولاد اس كے رضاعى بہن بھائى ہوئے چاہے وہ صرف باپ سے ہوں يا صرف ماں سے، يا دونوں سے، يا ان دونوں كى رضاعى اولاد ہو، تو وہ بھى اس دودھ پينے والے بچے كے رضاعى بہن بھائى بن جائيگے.

حتى كہ اگر كسى شخص كى دو بيوياں ہوں تو ايك بيوى نے اس بچے كو دودھ پلايا اور دوسرى نے ايك بچى كو تو وہ دونوں آپس ميں رضاعى بہن بھائى ہونگے، اور ان ميں سے كسى كے ليے دوسرے سے شادى كرنا جائز نہيں، اس ميں آئمہ اربعہ اور جمہور مسلمان علماء كا اتفاق ہے.

يہ مسئلہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے دريافت كيا گيا تو انہوں نے فرمايا:

" جفتى ايك ہے، يعنى ان عورتوں سے وطئى كرنے والا ايك شخص ہے جس كى بنا پر دودھ آيا ہے "

مسلمانوں كے اس اتفاق ميں كوئى فرق نہيں كہ جن بچوں نے بچے كے ساتھ دودھ پيا ہے اور جو اس رضاعت سے قبل يا بعد پيدا ہوئے ہيں ان ميں كوئى فرق نہيں اس ميں مسلمانوں كا اتفاق ہے.

جب ايسا ہى ہے تو پھر عورت كے سب قريبى رشتہ دار دودھ پينے والے بچے كے رضاعى رشتہ دار ہونگے، اس عورت كى اولاد اس كے بھائى، اور اس عورت كى اولاد كى اولاد اس كے بھائى كى اولاد ہو گى، اور عورت كے ماں باپ اس كے دادے نانے، اور اس عورت كے بہن اور بھائى اس بچے كے ماموں اور خالہ، يہ سب اس پر حرام ہونگے " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 34 / 32 ).

واللہ اعلم .

 

 

 

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ