والد صاحب تعليم مكمل كرنے سے پہلے شادى نہيں كرنے ديتے

ميں بيس برس كا نوجوان ہوں اور الحمد للہ ميرى مالى حالت بھى اچھى ہے، ميں شادى كرنا چاہتا ہوں ليكن ميرے والد صاحب مجھے شادى نہيں كرنے ديتے كہتے ہيں پہلے تعليم مكمل كرو اور پھر شادى كرنا، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

شادى كى استطاعت ركھنے والے كے ليے شادى جلد كرنا مستحب ہے كيونكہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

﴿ اور تم ميں سے جو مرد اور عورت بے نكاح ہيں ان كا نكاح كر دو، اور اپنے نيك بخت غلام اور لونڈيوں كا بھى ﴾النور ( 32 ).

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہ شادى كا حكم ہے، اور علماء كا ايك گروہ كہتا ہے كہ استطاعت ركھنے والے كے ليے شادى كرنا فرض ہے، انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان كے ظاہر سے استدلال كيا ہے:

" اے نوجوانوں كى جماعت تم ميں سے جو كوئى بھى شادى كى استطاعت ركھتا ہے وہ شادى كرے، كيونكہ يہ آنكھوں كو نيچا كر ديتى ہے، اور شرمگاہ كے ليے عفت كا باعث ہے، اور جو استطاعت نہيں ركھتا وہ روزے ركھے كيونكہ يہ اس كے ليے ڈھال ہے "

اسے بخارى و مسلم نے ابن مسعود رضى اللہ عنہ سے روايت كيا ہے.

اور كئى ايك طريق سے سنن ميں مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" شادى كرو، اور بچے پيدا كرو، اور نسل چلاؤ كيونكہ ميں روز قيامت تمہارے ساتھ فخر كرونگا "

الايامى: ايم كى جمع ہے اور يہ اس عورت پر بولا جاتا ہے جس كا خاوند نہ ہو، اور اس مرد پر بولا جاتا ہے جس كى بيوى نہ ہو، چاہے اس نے شادى كر كے عليحدگى كر لى ہو يا شادى نہ كى ہو " انتہى بتصرف

دوم:

بيٹے كو چاہيے كہ وہ والد كے سامنے صراحت سے شادى كى رغبت بيان كرے، اور باپ كو بھى چاہيے كہ وہ اس كى قدر كرے اور بيٹے كى شادى ميں معاونت كرے، بلكہ اكثر فقھاء تو كہتے ہيں كہ قدرت و استطاعت كے وقت ايسا كرنا واجب ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ہمارے اصحاب كہتے ہيں: اگر بيٹے كا نان و نفقہ والد پر ہو تو اسے بيٹے كى عفت كا خيال كرنا چاہيے جب وہ عفت و عصمت كا محتاج ہو، اور بعض اصحاب شافعى كا بھى يہى قول ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 8 / 172 ).

اور شيخ بن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بعض اوقات انسان كو شادى كى بہت زيادہ ضرورت ہوتى ہے جس طرح كھانے پينے كى حاجت ہو، اسى ليے اہل علم كا كہنا ہے:

جس كا نان و نفقہ اور اخراجات كسى كے ذمہ لازم ہو تو اگر اس كا مال اتنا ہو كہ وہ اس كى شادى كر سكے تو اس كى شادى كرنا بھى لازم ہے، اس ليے اگر بيٹا شادى كى ضرورت ركھتا ہو اور اس كے پاس شادى كے ليے مال نہ ہو تو باپ كے ليے بيٹے كى شادى كرنا واجب ہے.

ليكن ميں نے سنا ہے كہ كچھ ايسے باپ بھى ہيں جو اپنى جوانى كى حالت بھول چكے ہيں جب ان كا بيٹا ان سے شادى كرنے كا كہتا ہے تو وہ جواب ديتے ہيں:

تم اپنے پسينے كى كمائى سے خود شادى كرو، يہ جائز نہيں بلكہ اگر وہ اس كى شادى كرنے پر قادر ہو تو ايسا كہنا حرام ہے اور اگر باپ نے قدرت ہونے كے باوجود بيٹے كى شادى نہ كى تو روز قيامت بيٹا اس كے ساتھ جھگڑا كريگا " انتہى

ماخوذ از: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 410 ).

اور جو غلط اشياء معروف ہو چكى ہيں ان ميں يہ بھى شامل ہے:

باپ كا اس معاملہ ميں بيٹے سے اعراض كرنا، اور بيٹے كى اس ضرورت سے تجاہل برتنا، بعض اوقات بيٹے كو شادى كى ضرورت بہت شديد ہو سكتى ہے، جس ميں تاخير كرنے كے نتيجہ ميں ايك قسم كا انحراف اور غلط كارى كى طرف جانا پيدا ہو سكتا ہے، اور يہ سب كو معلوم ہے كہ لوگ اس ضرورت ميں مختلف ہوتے ہيں، اور اس سلسلہ ميں اپنے آپ پر كنٹرول كرنے ميں كوئى كم اور كوئى زيادہ ہوتا ہے، اور پھر جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے كہ بيٹے كو شادى كى ضرورت ہونے كے باوجود باپ كا شادى سے منع كرنے ميں باپ گنہگار بھى ہو سكتا ہے.

اور كچھ باپ ايسے بھى ہوتے ہيں جو تعليم اور ملازمت كو شادى پر مقدم سمجھتے ہيں، اور وہ اس سے قبل بيٹے كى شادى كا سوچتے بھى نہيں جو كہ بہت بڑى غلطى ہے، بلكہ معاملہ كو بغور ديكھنا اور پركھنا چاہيے، اور مصلحت اور مفاسد و خرابى كے مابين موازنہ كرنا چاہيے، اور اپنے بيٹے كى شادى كى ضرورت و حاجت كو جاننا چاہيے، اور شادى اور تعليم دونوں كے حصول ميں بيٹے كى قدرت و استطاعت كو بھى مدنظر ركھنا چاہيے.

اور جب ان دونوں كا جمع كرنا ممكن نہ ہو تو پھر مقدم كسے كيا جائيگا، يقينا دين كى حفاظت معتبر ہے، بلكہ بدن و مال كى حفاظت مقدم ہے، اور بالاولى يہ تعليم پر مقدم ہو گى.

سوم:

بعض اوقات باپ بيٹے كى تعليم سے قبل شادى كرنے ميں معذور ہو سكتا ہے، يا تو اس ليے كہ وہ ديكھتا ہے كہ بيٹا اپنے تصرفات ميں غير منضبط ہے صحيح نہيں، اور وہ خود اپنى ذمہ دارياں نہيں اٹھا سكتا چہ جائيكہ كسى دوسرے كى ذمہ دارى اٹھانے كا متحمل ہو.

يا پھر وہ ديكھتا ہے كہ بيٹا اپنى تعليم ميں سست ہے اور كوتاہى كر رہا ہے، اور اس كا ظن غالب ہے كہ شادى كے بعد اس كى سستى ميں اور اضافہ ہو جائيگا.

يا پھر وہ ديكھتا ہے كہ بيٹے كو شادى كى زيادہ شديد ضرورت نہيں، بلكہ صرف ايك عام سى رغبت ہے يا پھر كسى دوسرے كى تقليد اور نقل ميں ايسا كر رہا ہے.

اس ليے بيٹے كو چاہيے كہ وہ باپ كے عذر كو تلاش كرے اور اسے مطمئن اور راضى كرنے كى كوشش كرے، اور اپنى شادى كى ضرورت كو بيان كرے، اور شادى كے بعد بيوى كى ديكھ بھال كى قدرت اور استطاعت كو سامنے لائے.

ہم اللہ تعالى سے آپ كے ليے توفيق كى دعا كرتے ہيں.

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ