شيعہ سے نكاح كرنے كا حكم

ايك شيعہ مسلمان عورت سے شادى كرنے كے بارہ ميں آپ كى رائے كيا ہے، يہ علم ميں رہے كہ ميں اہل سنت و الجماعت كے مسلك سے تعلق ركھتا ہوں، اور آپ كے علم ميں لانا چاہتا ہوں كہ يہ شيعہ لڑكى ايك عرب ملك سے تعلق ركھتى ہے اور وہ اكثر عقائد نہيں ركھتى جو شيعہ كے ہيں، بلكہ وہ اہل سنت و الجماعت كے بہت زيادہ قريب ہے، ليكن بعض امور ميں نہيں اور ميں كوشش كر رہا ہوں كہ وہ ان كو بھى چھوڑ دے كيونكہ يہ صحيح نہيں، اور اسے چاہيے كہ وہ اپنے دين كے بارہ مكمل تحقيق كرے اور ثابت شدہ كو اختيار كرے ؟

الحمد للہ:

جب اللہ سبحانہ و تعالى نے آپ كو ہدايت سے نوازا ہے اور آپ اہل سنت و الجماعت كا مسلك اختيار كيے ہوئے تو آپ كے ليے اہل سنت اور شيعہ كے مابين بعد كو جاننا ضرورى ہے.

شيعہ حضرات جن اصولوں ميں اہل سنت والجماعت كى مخالفت كرتے ہيں وہ بہت زيادہ ہيں ليكن چند ايك كا ذكر كيا جاتا ہے:

شيعہ حضرات كا عقيدہ ہے كہ قرآن مجيد ميں تحريف ہو چكى ہے، اور وہ اپنے اماموں كو بھى معصوم مانتے ہيں، اور وہ چند ايك صحابہ كرام كو چھوڑ كر باقى سب صحابہ كو كافر كہتے ہيں، اور وہ قبروں اور مزاروں كى تعظيم كرتے ہيں اور قبر والے سے دعا مانگتے ہيں، اور اللہ كو چھوڑ كر اس سے مدد مانگتے ہيں.

اس كے ساتھ يہ بھى اضافہ كر ليں كہ وہ اہل سنت و الجماعت سے بہت زيادہ بغض و كينہ اور حسد ركھتے ہيں اور انہيں كافر كہتے ہيں، اور اگر ان شيعہ سے شادى ہو جائے تو پھر كيا حالت ہو گى ؟

اور ان دونوں مذہبوں ميں تنافض اور مخالفت كے ہوتے ہوئے وہ كيسے كامياب ہو سكتا ہے ؟ اور وہ اپنى اولاد كى تربيت كس نہج پر صحيح كر سكتا ہے ؟ كيا وہ اپنى اولاد كو بارہ اماموں كے معصوم ہونے كا سبق دےگا، يا كہ ان سے غلطى اور بھول چوك ہونے كا درس ؟ اس كے علاوہ اور بہت سارى متناقض اشياء ميں كيا كريگا ؟

اور عقد نكاح كے متعلق عرض يہ ہے كہ: اگر وہ عورت يہ سب يا ان ميں كچھ اعقادات ركھتى ہے تو يہ عقد نكاح باطل ہو گا، اور آپ اس سے نكاح كرنا حلال نہيں؛ كيونكہ يہ اعتقادات دين كے مخالف ہيں، اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور تم مشرك عورتوں سے اس وقت تك نكاح مت كرو جب تك وہ مومن نہ ہو جائيں البقرۃ ( 221 ).

اور اگر وہ عورت ان ميں سے ہو جو يہ سب يا كچھ اعقادات نہيں ركھتے، يا پھر وہ عورت ان كا عقيدہ ركھتى تھى ليكن اس نے اب چھوڑ كر توحيد و سنت كى راہ اختيار كر لى ہے تو آپ كے اس سے شادى كرنا جائز ہے، اور اس غلط ماحول كو چھوڑنے ميں اس كا تعاون كرنے پر آپ مشكور ہونگے، اور اجروثواب كے مستحق ٹھريں گے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا رافضہ سے شادى كرنا جائز ہے ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

" خالصتا رافضى لوگ بدعتى اور گمراہ لوگ ہيں، كسى بھى مسلمان شخص كو اپنى ولايت ميں موجود عورت كا نكاح رافضى سے نہيں كرنا چاہيے.

اور اگر وہ خود رافضى عورت سے شادى كرے تو اس صورت ميں اس كا نكاح صحيح ہو گا جب اس عورت سے توبہ كى اميد ہو، وگرنہ اس سے نكاح نہ كرنا ہى افضل ہے؛ تا كہ وہ اس كى اولاد كو خراب نہ كرے " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 61 ).

آپ نے ديكھا كہ شيخ الاسلام رحمہ اللہ نے رافضى شخص سے شادى كرنے كو منع كيا ہے؛ كيونكہ خاوند كا اپنى بيوى پر اثر ہوتا ہے، اور انہوں نے رافضى عورت كے ساتھ ايك شرط سے شادى كرنے كى اجازت دى ہے كہ اگر اس كے توبہ كرنے كى اميد ہو.

چنانچہ اگر آپ ديكھتے ہيں كہ وہ عورت استقامت اور حق كى طرف گامزن ہے، اور آپ ديكھتے ہيں كہ جس عقيدہ پر وہ ہے وہ اس سے بغض ركھتى ہے اور جن عقائد و افعال پر اس كے گھر والے ہيں وہ اس كو ترك كرنا چاہتى ہے تو پھر اس سے شادى كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

اگرچہ آپ كے ليے بہتر اور افضل تو يہى ہے كہ آپ كوئى دين والى عورت تلاش كريں جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديا ہے.

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ